چمن/کوئٹہ/قصور ( کیو این این ورلڈ/ویب ڈیسک /قصور سے بیوروچیف طارق نوید سندھو) ملک بھر میں جاری بارشوں اور طوفانی صورتحال نے قیامت صغریٰ بپا کر دی ہے، جہاں بلوچستان کے اضلاع قلعہ عبداللہ اور چمن میں سیلابی ریلوں نے مسافر گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، وہیں خیبر پختونخوا اور پنجاب میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے معصوم بچوں سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ قلعہ عبداللہ، گلستان اور جنگل پیر علیزئی کے مقامات پر آنے والے اونچے درجے کے سیلابی ریلوں میں ایک مسافر وین اور اشیائے خورونوش سے لدا ٹرک بہہ گیا ہے، جس کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق تحصیل گلستان کے علاقے حبیب زئی میں 15 مسافروں سے بھری ایک وین بے قابو لہروں کی نذر ہو گئی، جبکہ ایک ٹرک بھی ریلے میں بہہ جانے کی اطلاع ہے، جس کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ قلعہ عبداللہ ندی میں طغیانی کے باعث کوئٹہ چمن شاہراہ پر ٹریفک معطل ہے اور سڑک کا ایک بڑا حصہ بہہ جانے سے سینکڑوں مسافر محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ پشین اور توبہ اچکزئی کی برساتی ندیوں میں بھی متعدد گاڑیاں پھنسنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ بلوچستان میں اب تک 4 افراد کی ہلاکت اور درجنوں کچے مکانات گرنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
خیبر پختونخوا میں بھی بارشوں نے شدید جانی نقصان پہنچایا ہے، جہاں پی ڈی ایم اے کے مطابق 25 مارچ سے اب تک مختلف حادثات میں 17 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں 14 معصوم بچے شامل ہیں۔ سب سے زیادہ تباہی بنوں میں ہوئی جہاں دیواریں گرنے سے 7 بچوں سمیت 8 افراد لقمہ اجل بنے، جبکہ ایبٹ آباد میں ایک گھر کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کوہاٹ، شمالی وزیرستان اور بٹگرام میں بھی اسی طرح کے افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں، جس سے صوبے میں سوگ کی فضا برقرار ہے۔
پنجاب کے ضلع قصور میں بھی گزشتہ روز ایک لرزہ خیز واقعہ پیش آیا جہاں نواحی علاقے تھ شیخم میں تیز بارش کے دوران نجی میرج ہال کی دیوار گرنے سے ملبے تلے دب کر 4 بچے جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق بچے دیوار کے قریب کھیل رہے تھے کہ اچانک خستہ حال دیوار ان پر آن گری، زخمی ہونے والے بچوں کی عمریں 5 سے 15 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔ ادھر کراچی میں بھی گزشتہ دنوں ہونے والی طوفانی بارشوں نے 21 افراد کی جان لی، جن میں سے اکثر بلدیہ ٹاؤن میں دیوار گرنے کے واقعے کا شکار ہوئے تھے۔
این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بارشوں اور ژالہ باری کا یہ سلسلہ 5 اپریل تک جاری رہ سکتا ہے، جس سے مزید سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ندی نالوں سے دور رہنے کی تاکید کی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم دشوار گزار راستوں اور سیلابی صورتحال کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔