ایران جنگ کے بھارتی معیشت پر منفی اثرات

نئی دہلی(کیو این این ورلڈ) مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے اثرات عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ بھارت پر بھی نمایاں طور پر پڑنے لگے ہیں، جہاں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث بھارتی مالیاتی منڈیوں سے بڑے پیمانے پر سرمایہ نکلنا شروع ہو گیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھارتی اسٹاک مارکیٹ اور سرکاری بانڈز سے ریکارڈ رفتار کے ساتھ سرمایہ واپس نکال لیا ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار (FPI/FII) مجموعی طور پر 12.14 ارب ڈالر سے زائد کا سرمایہ بھارت سے نکال چکے ہیں، جو حالیہ عرصے میں ایک ریکارڈ انخلا قرار دیا جا رہا ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ انخلا سرمایہ کاروں کے “رسک آف” رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس کی بنیادی وجہ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال ہے۔

رپورٹس کے مطابق صرف اسٹاک مارکیٹ ہی نہیں بلکہ بھارتی سرکاری بانڈز سے بھی تقریباً 1.61 ارب ڈالر کا سرمایہ نکالا گیا ہے، جس سے مالیاتی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

جنگی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھارت میں مہنگائی بڑھنے کے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں، کیونکہ بھارت اپنی توانائی کی بڑی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

اسی دوران بھارتی روپیہ بھی دباؤ کا شکار رہا ہے اور جنگی کشیدگی کے آغاز کے بعد اس کی قدر میں تقریباً 4.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد روپے کی قیمت تاریخی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال طویل ہوتی ہے تو بھارت کی اسٹاک مارکیٹ، کرنسی اور مہنگائی پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے