لاہور (کیو این این ورلڈ)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ساتھ ہونے والے اہم مذاکرات کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جن کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں عدم شرکت پر بنگلادیش پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا، جبکہ اسے مستقبل میں ایک آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی دی جائے گی۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو 2028 سے 2031 کے درمیان ایک انٹرنیشنل آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی سونپی جائے گی۔ آئی سی سی کا مؤقف ہے کہ بنگلادیش کے ساتھ پیش آنے والی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فریقین کے تحفظات کا ازالہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں آئی سی سی، پی سی بی اور بی سی بی کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے تھے، جن کا بنیادی محور پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ اور بنگلادیش کے تحفظات تھے۔ ان مذاکرات میں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام شریک تھے۔

ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات پانچ گھنٹے سے زائد جاری رہے، جن میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا فوکس بنگلادیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالے پر رہا۔ ملاقات کے دوران آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے دونوں فریقین کے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے بی سی بی کے مطالبات پر مثبت ردعمل دیا اور بنگلادیش کے لیے ایک قابلِ قبول فارمولا تیار کیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان نے سری لنکن صدر کی درخواست پر بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آج اس بات کا اعلان کیا گیا کہ پاکستان آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ شیڈول کے مطابق کھیلے گا۔ پاکستان نے یہ فیصلہ سری لنکن صدر کی خصوصی درخواست پر کیا۔

اسی تناظر میں بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان سے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی درخواست کی ہے۔ بی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ مشکل وقت میں پاکستان نے بنگلادیش کا بھرپور ساتھ دیا، اور پاکستان سے اپیل کی گئی کہ وہ بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ کھیلے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے اس سے قبل بنگلادیش سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا۔ بنگلادیش نے بھارت میں سکیورٹی خدشات کے باعث اپنے ورلڈ کپ میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کر لیا تھا۔

جوابی اقدام کے طور پر پاکستان نے بھی 15 فروری کو شیڈول پاک بھارت میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ میچ نہ ہوتا تو آئی سی سی کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، جس کے پیش نظر مذاکرات کو انتہائی اہمیت حاصل تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے