اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) بنگلادیش کے نو منتخب وزیراعظم طارق رحمان کی تقریبِ حلف برداری کل 17 فروری کو منعقد ہوگی، جس میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر احسن اقبال کریں گے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اپنے طے شدہ بیرونِ ملک دورے کے باعث اس اہم تقریب میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کر سکیں گے، جس کی وجہ سے انہوں نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو خصوصی طور پر ڈھاکا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف جلد ہی بنگلادیش کا باقاعدہ دورہ کریں گے تاکہ وہ نئے وزیراعظم طارق رحمان کو منصب سنبھالنے پر ذاتی طور پر مبارکباد دے سکیں اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہو سکے۔
بنگلادیش کے نئے وزیراعظم اور ارکانِ پارلیمنٹ کی حلف برداری کی اس تقریب کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے، جس کے لیے چین، سعودی عرب، بھارت، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، ملائیشیا، برونائی، سری لنکا اور نیپال سمیت دنیا کے متعدد ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ عالمی رہنماؤں کی اس کثیر تعداد میں شرکت بنگلادیش میں ہونے والی حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور نئی حکومت کے لیے عالمی برادری کی حمایت کی عکاس سمجھی جا رہی ہے۔ پاکستان کی جانب سے اعلیٰ سطح کی نمائندگی کا مقصد برادر اسلامی ملک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور باہمی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرنا ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن بنگلادیش کی جانب سے جاری کردہ حتمی نتائج کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے عام انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 209 نشستیں حاصل کر کے واضح برتری حاصل کی ہے، جس کے بعد وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئی ہے۔ انتخابات میں جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے، جبکہ طلبہ کی نمائندہ جماعت این سی پی نے بھی 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان انتخابات کے نتائج کو بنگلادیش کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ نئی حکومت خطے میں امن و استحکام اور معاشی ترقی کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔