تہران (کیو این این ورلڈ) ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای ہفتہ کو ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید ہو گئے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق سپریم لیڈر کی شہادت ان کے دفتر میں ہوئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق شہادت پر ملک بھر میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر تھے اور آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ان کے جانشین بنے تھے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے حملوں میں سپریم لیڈر کی بیٹی اور نواسے کی شہادت کی بھی تصدیق کی ہے، جبکہ ان کے داماد اور بہو کے جاں بحق ہونے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ زیرِ زمین بنکر میں موجود تھے اور ان کے کمپاؤنڈ پر 30 بم گرائے گئے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد مارے گئے۔ اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی کہا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی میت کی تصویر امریکی صدر کو دکھائی گئی۔ برطانوی میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے خامنہ ای کی لاش ملنے کی خبر دی تھی۔
اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر اب نہیں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بھی مارے گئے، خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ کیا گیا اور سینئر جوہری حکام بھی ہلاک ہوئے، جبکہ ایران کے خلاف کارروائی جب تک ضروری ہوئی جاری رہے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بحری اور فضائی حملے کیے جن میں ایرانی حکام کے مطابق 201 شہری شہید اور 747 زخمی ہوئے۔ خبر ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور کے شہید ہونے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔