واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی سینیٹر ایڈورڈ مارکی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فوجی کارروائی کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر کی گئی ہے، جو امریکی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایڈورڈ مارکی نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف علاقائی جنگ میں شدت پیدا ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجیوں اور شہریوں کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ سینیٹر کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری خطرے کو مسلسل بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے، جبکہ خود وزیر خارجہ مارکو روبیو اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ایران اس وقت یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا۔
امریکی سینیٹر نے زور دیا کہ حملے سے پہلے بھی اور اب بھی اس مسئلے کا سفارتی حل موجود ہے، لہٰذا جنگی جنون کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر صدر ٹرمپ نے فوری طور پر جنگ نہ روکی تو کانگریس کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔