ٹرمپ اور جنگ کے خلاف عوامی بغاوت، 70 لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے

واشنگٹن(کیو این این ورلڈ) امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جن میں ملک بھر سے لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

رپورٹس کے مطابق “نو کنگز” کے عنوان سے ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں میں 50 ریاستوں کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں، جبکہ مجموعی طور پر 3 ہزار سے زائد مقامات پر عوام نے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ منتظمین کے مطابق ان مظاہروں میں 70 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین نے جنگ کے خاتمے، حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی اور مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ متعدد مقامات پر “اینڈ دا وار” اور “نو کنگز” کے نعرے گونجتے رہے۔

ریاست مینی سوٹا میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو ایران جنگ کے حوالے سے گمراہ کیا جا رہا ہے اور یہ تنازع فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔

برنی سینڈرز نے کہا کہ یہ جنگ غیر آئینی ہے کیونکہ اسے کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا، اور اس کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگوں سے دور رہیں گے لیکن اس کے برعکس خطے میں نئی جنگی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

سینیٹر نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ پالیسیوں نے خطے میں جنگ کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں لبنان، مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔

دوسری جانب بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دیگر ممالک میں بھی جنگ کے خلاف احتجاجی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا کی مختلف ریاستوں میں آئندہ دنوں میں مزید ہزاروں احتجاجی مظاہروں کا امکان ہے، اور منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے امریکی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی احتجاجوں میں شمار ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے