نیویارک (کیو این این ورلڈ) ایران نے ممکنہ امریکی فوجی حملے کے پیش نظر اقوام متحدہ کو ایک باضابطہ خط لکھ دیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کی صورت میں انتہائی سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ارسال کیے گئے خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

خط کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران جنگ کا خواہشمند نہیں ہے اور نہ ہی وہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ چاہتا ہے، تاہم اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے بھرپور کارروائی کرے گا۔ ایران نے مزید کہا کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود مخالف قوتوں کے تمام فوجی اڈوں، تنصیبات اور دیگر اثاثوں کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا، جس سے خطے کا امن مزید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

خط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکہ کو ڈیگو گارشیا اور آر اے ایف فیئر فورڈ کے ایئر فیلڈز استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں۔ ایران نے اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرے تاکہ کسی بھی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے