نئی دہلی(کیو این این ورلڈ) بھارتی فضائیہ نے مقامی ساختہ تیجس لڑاکا طیاروں کے پے در پے حادثات کے بعد اپنے پورے بیڑے کو عارضی طور پر گراؤنڈ کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 7 فروری کو پیش آنے والے حالیہ حادثے کے بعد زیرِ استعمال تمام 35 تیجس طیاروں کی پروازیں روک کر ان کی تکنیکی جانچ کا حکم دیا گیا ہے۔ ان معائنوں میں طیارے کے لینڈنگ گیئر، الیکٹرو میگنیٹک بریکنگ سسٹم اور آن بورڈ سافٹ ویئر کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حادثات کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ 7 فروری کے واقعے میں سنگل سیٹ طیارے کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا تھا، تاہم پائلٹ معمولی چوٹوں کے باوجود محفوظ رہا۔
یہ 2016 میں فضائیہ میں شمولیت کے بعد تیجس طیارے کو پیش آنے والا تیسرا بڑا حادثہ ہے۔ اس سے قبل مارچ 2024 میں جیسلمیر کے قریب ایک طیارہ تباہ ہوا تھا، جبکہ نومبر 2025 میں دبئی ایئر شو کے دوران ایک اور تیجس طیارہ فضائی کرتب دکھاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا تھا جس میں پائلٹ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ ان مسلسل واقعات نے بھارتی ساختہ طیاروں کی تکنیکی صلاحیت اور حفاظتی معیار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے باعث فضائیہ نے اب مکمل کلیئرنس تک ان کی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
دوسری جانب، طیارہ ساز کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) نے ان واقعات کے باوجود تیجس کے دفاع میں بیان جاری کیا ہے۔ کمپنی نے 7 فروری کے واقعے کو بڑا حادثہ تسلیم کرنے کے بجائے ایک "معمولی تکنیکی خرابی” قرار دیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ تیجس اب بھی عالمی سطح پر اپنے ہم عصر طیاروں کے مقابلے میں بہترین حفاظتی ریکارڈ رکھتا ہے۔ ایچ اے ایل حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایس او پیز کے تحت بھارتی فضائیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ تکنیکی مسائل کو جلد حل کر کے طیاروں کو دوبارہ آپریشنل کیا جا سکے۔