تہران: (کیو این این ورلڈ)ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے قومی سلامتی کے سیکرٹری علی لاریجانی اپنے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی سمیت اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ تہران میں پیر اور منگل کی درمیانی شب تقریباً ساڑھے 3 بجے پیش آیا، جہاں حملے میں ان کے ایک معاون کی بھی شہادت کی اطلاع ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق اس سے قبل علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک ہاتھ سے لکھا پیغام جاری کیا گیا تھا، جس میں شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے نہ صرف لاریجانی بلکہ بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو بھی نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق علی لاریجانی عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی۔ وہ ایران کی داخلی سیاست، پارلیمانی امور اور خارجہ پالیسی میں ایک طویل عرصے تک بااثر کردار ادا کرتے رہے اور انقلابِ ایران کے بعد ابھرنے والی نمایاں سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔
علی لاریجانی 12 سال تک ایران کی پارلیمنٹ (مجلسِ شورٰی) کے اسپیکر رہے جبکہ وہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران کے چیف مذاکرات کار بھی رہ چکے تھے۔ وہ صدارتی سیاست میں بھی سرگرم رہے اور متعدد بار صدارتی انتخابات میں اہم امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔
ادھر پاسداران انقلاب نے غلام رضا سلیمانی کی شہادت کی بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس خون کا بدلہ لینے کے عزم سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ذرائع کے مطابق سعید جلیلی کو عارضی طور پر قومی سلامتی کے سیکرٹری کے طور پر لانے کی تجویز زیر غور ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ علی لاریجانی ایک باصلاحیت اور قیمتی شخصیت تھے جنہوں نے مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انفرادی شخصیات کی شہادت سے نظام کو کمزور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایران کا نظام مضبوط اداروں پر قائم ہے۔