چینگلپٹو، تمل ناڈو (کیو این این ورلڈ) جنوبی بھارت کے سپر اسٹار اور ابھرتے ہوئے سیاست دان تھلاپتی وجے کی ازدواجی زندگی میں غیر معمولی موڑ آ گیا ہے۔ ان کی اہلیہ سنگیتا سورنالنگم نے 27 سالہ ازدواجی رفاقت کے بعد عدالت سے رجوع کرتے ہوئے طلاق کی درخواست دائر کر دی ہے، جس میں انہوں نے وجے پر ازدواجی بے وفائی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنگیتا سورنالنگم نے ریاست تمل ناڈو کے ضلع چینگلپٹو کی فیملی کورٹ میں باقاعدہ درخواست جمع کرائی۔ درخواست کے منظر عام پر آنے کے بعد شوبز اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، کیونکہ وجے نہ صرف فلمی دنیا کا بڑا نام ہیں بلکہ حالیہ عرصے میں فعال سیاست میں بھی قدم رکھ چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق طلاق کی درخواست Special Marriage Act 1954 کی دفعہ 1(الف)، (ب)، (د) اور دفعات 36 اور 37 کے تحت دائر کی گئی ہے۔ ان دفعات میں زنا (بے وفائی)، ظلم و زیادتی، علیحدگی اور نان و نفقہ سے متعلق قانونی نکات شامل ہیں، جو بھارتی قانون کے مطابق طلاق کے لیے قابلِ قبول بنیادیں سمجھی جاتی ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وجے مبینہ طور پر ایک اداکارہ کے ساتھ ازدواجی تعلق سے باہر تعلق میں ملوث رہے، جس کے باعث سنگیتا کو شدید جذباتی صدمہ اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل ازدواجی اعتماد کی صریح خلاف ورزی اور رشتے سے غداری کے مترادف ہے۔
درخواست میں درج عبارت کے مطابق:“فریقِ مخالف (وجے) ایک اداکارہ کے ساتھ زنا پر مبنی تعلق میں ملوث رہے۔ اس عمل سے درخواست گزار کو شدید جذباتی اور ذہنی اذیت پہنچی، جو ازدواجی اعتماد سے غداری اور اس کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔”
عدالت نے مقدمے کی سماعت 20 اپریل 2026 کو مقرر کر دی ہے۔ تاحال وجے کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے۔

تھلاپتی وجے اور سنگیتا سورنالنگم کی محبت کی کہانی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہ تھی۔ 1990 کی دہائی کے آخر میں سنگیتا، جو اس وقت برطانیہ میں مقیم تھیں، وجے کی مداح کی حیثیت سے چنئی آئیں اور ان سے ملاقات کی۔ یہی ملاقات دونوں کے درمیان تعلق کا نقطۂ آغاز بنی۔
مداح اور سپر اسٹار کا یہ رشتہ وقت کے ساتھ ایک سنجیدہ ازدواجی بندھن میں بدل گیا۔ مذہبی اختلافات کے باوجود دونوں نے Special Marriage Act 1954 کے تحت شادی کی۔ وجے ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئے جبکہ سنگیتا ہندو مذہب میں پرورش پائیں، تاہم ان کی شادی کو محبت کی فتح قرار دیا جاتا رہا۔

یہ جوڑا تقریباً 27 برس تک ساتھ رہا اور ان کے دو بچے ہیں: 25 سالہ جیسن سنجے اور 20 سالہ دیویا ساشا۔ ابتدائی برسوں میں سنگیتا اکثر وجے کے ہمراہ فلمی تقریبات، پروموشنل ایونٹس اور ایوارڈ فنکشنز میں شریک ہوتی تھیں، لیکن وقت کے ساتھ انہوں نے عوامی زندگی سے فاصلہ اختیار کر لیا۔
خاص طور پر وجے کی سیاسی سرگرمیوں اور ان کی جماعت تملگا ویٹری کژگم کے قیام کے دوران سنگیتا کی عدم موجودگی نے بھی قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا۔ تاہم اس وقت ان خبروں کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔
اب طلاق کی درخواست اور اس میں عائد الزامات نے نہ صرف ان کے ذاتی تعلق کو خبروں کی زینت بنا دیا ہے بلکہ وجے کے فلمی اور سیاسی کیریئر پر بھی ممکنہ اثرات کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔ آئندہ سماعت اور وجے کے ردعمل کے بعد ہی اس معاملے کی مزید تصویر واضح ہو سکے گی۔