ڈھاکہ (کیو این این ورلڈ)بنگلادیش میں 12 فروری 2026 کو ہونے والے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے سامنے آنے والے ایک حالیہ عوامی سروے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے، جس میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والے اتحادوں کے درمیان انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ (کیو این این ورلڈ) سروے کے مطابق طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی اتحاد کو 44.1 فیصد عوامی حمایت حاصل ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی کے زیرِ قیادت 11 سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد 43.9 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ ملک بھر کے 63 ہزار سے زائد ووٹرز سے کی گئی اس رائے دہی میں 92 فیصد افراد نے ووٹ ڈالنے کے پختہ ارادے کا اظہار کیا ہے، جو ملک میں جمہوری عمل کے لیے عوامی جوش و خروش کی عکاسی کرتا ہے۔

اگرچہ مجموعی ووٹوں کے تناسب میں بی این پی کو معمولی برتری حاصل ہے، تاہم نشستوں کے لحاظ سے سروے کے نتائج جماعتِ اسلامی کے حق میں نظر آتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جماعتِ اسلامی کا اتحاد 105 حلقوں میں واضح کامیابی حاصل کر سکتا ہے، جبکہ بی این پی کو 101 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ اس کے علاوہ 75 حلقے ایسے ہیں جہاں دونوں بڑے اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے اور وہی انتخابات کے حتمی نتیجے کا فیصلہ کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلے غیر جانبدارانہ انتخابات ہوں گے جن میں عوامی لیگ کی غیر موجودگی نے سیاسی میدان کو دو بڑے نظریاتی بلاکس میں تقسیم کر دیا ہے، جہاں کرپشن کا خاتمہ اور معاشی اصلاحات ووٹرز کے بنیادی مطالبات ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے