نیو یارک (کیو این این ورلڈ) بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے خلا کی گہرائیوں میں زمین کے حجم کا ایک ایسا نیا سیارہ دریافت کیا ہے جو ممکنہ طور پر انسانی رہائش کے قابل ہو سکتا ہے۔ آسٹریلیا، برطانیہ، امریکہ اور ڈنمارک کے ماہرین فلکیات پر مشتمل ٹیم نے اس سیارے کو "ایچ ڈی 137010 بی” (HD 137010 b) کا نام دیا ہے، جو ہمارے نظامِ شمسی سے تقریباً 150 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ہے۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق، اس سیارے کی دریافت کے لیے ناسا کی "کیپلر اسپیس ٹیلی اسکوپ” کے 2017 میں جمع کیے گئے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا۔ یہ سیارہ ایک ایسے ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے جو ہمارے سورج سے مشابہت رکھتا ہے، تاہم یہ سورج کے مقابلے میں کچھ ٹھنڈا اور مدھم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ حجم میں زمین سے صرف 6 فیصد بڑا ہے اور اس کا اپنے ستارے کے گرد گردش کا دورانیہ 355 دن ہے، جو کہ زمین کے سال سے کافی حد تک مماثلت رکھتا ہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس سیارے پر انسانی رہائش کے قابل ماحول موجود ہونے کے 50 فیصد امکانات ہیں۔ ابتدائی مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی سطح کا درجہ حرارت ہمارے پڑوسی سیارے مریخ سے ملتا جلتا ہے اور یہ منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس سیارے کی موجودگی کا انکشاف اس وقت ہوا جب یہ مختصر وقت کے لیے اپنے ستارے کے سامنے سے گزرا، جس سے پیدا ہونے والی چمک کے سگنل کو نو آموز ماہرین نے پکڑا اور بعد میں اس پر باقاعدہ تحقیق کی گئی۔
اس اہم سائنسی تحقیق کے نتائج معروف جریدے "Astrophysical Journal Letters” میں شائع ہوئے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق اگرچہ یہ سیارہ کائناتی اعتبار سے ہمارے نظامِ شمسی کے قریب تصور کیا جاتا ہے، تاہم موجودہ ٹیکنالوجی کے ذریعے وہاں تک پہنچنے میں انسانوں کو ہزاروں سال لگ سکتے ہیں۔ اس دریافت نے کائنات میں زندگی کی تلاش اور زمین جیسے دیگر سیاروں کی کھوج کے مشن کو ایک نئی جہت عطا کر دی ہے۔