لیہ: (کیو این این ورلڈ) پنجاب کے ضلع لیہ میں پولیس کے مبینہ غیر قانونی رویے کا سنگین واقعہ پیش آیا، جہاں سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار نے گھر پر چھاپے کے دوران ویڈیو بنانے پر ایک نوجوان کو گولی مار کر قتل کر دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق واقعہ گزشتہ رات جمن شاہ کے چک نمبر 149 سی ٹی ڈی اے میں پیش آیا، جہاں سب انسپکٹر سجاد بشیر اور اہلکار محمد رضا دیگر اہلکاروں کے ہمراہ ایک گھر پر چھاپہ مارنے پہنچے۔ چھاپے کے دوران 20 سالہ نوجوان نوید اکرم نے موبائل فون سے کارروائی کی ویڈیو بنانا شروع کی تو سب انسپکٹر نے مبینہ طور پر غصے میں آ کر اس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں نوجوان موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید اشتعال پھیل گیا، مشتعل اہلِ علاقہ نے سب انسپکٹر سجاد بشیر اور اہلکار محمد رضا کو قابو میں لے لیا۔ تاہم اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور دونوں اہلکاروں کو عوام سے چھڑا کر اپنے ساتھ لے گئی۔
جاں بحق نوجوان کے ورثا نے واقعے کو پولیس کی کھلی بربریت قرار دیتے ہوئے اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے، فوری برطرفی اور قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) حسن جاوید نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سب انسپکٹر سجاد بشیر اور اہلکار محمد رضا کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔
پولیس کے مطابق مقتول کے والد محمد اکرم کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جب کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں، واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف میرٹ پر کارروائی کی جائے گی اور مقتول کے ورثا کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و غصے کی فضا برقرار ہے اور شہریوں نے پولیس کے اختیارات کے غلط استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔