واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات پر امریکی جریدے نے پاکستان کے موقف کی حمایت کر دی ہے۔ دی نیشنل انٹرسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد جنوبی ایشیا میں پانی کی سیاست نے نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ معاہدے کی معطلی سے نہ صرف علاقائی کشیدگی بڑھے گی بلکہ یہ اقدام جنوبی ایشیا میں فوڈ سیکیورٹی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ جریدے نے بھارت کے ‘دُلہستی اسٹیج-II’ منصوبے کو معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پانی کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

امریکی جریدے نے مزید کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے آبی ڈیٹا کی فراہمی روکنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور پانی کا یہ بحران خطے میں ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت پہلے ہی یہ طے کر چکی ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ معاہدے کے تحت بھارت پر مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے مہیا کرنا قانونی طور پر لازم ہے۔ جریدے کے مطابق پانی کو ہتھیار بنانے کی بھارتی کوششیں عالمی عدالتوں اور بین الاقوامی قوانین کی نظر میں کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے