زمیندار کیوں ڈوب رہا ہے؟
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا کے تمام موسموں سے نوازا ہوا ہے، مگر نعمتوں کا شکرانہ بھی تو ادا کرنا ہوتا ہے، جو بدقسمتی سے ہم ادا نہیں کر پا رہے۔موجودہ دور میں، جہاں دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ہم زراعت کے حوالے سے مسلسل پیچھے کی طرف جا رہے ہیں، یعنی ہم نے تنزلی کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ اس کی شرمناک مثالیں چینی کا بحران، کپاس کی پیداوار کا نہ ہونا اور گندم کو دوسرے ممالک سے منگوانا ہیں۔ یہ وہ تمام مثالیں ہیں جو ہمیں شرم سے سر جھکانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ آج ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور اس کے ذمہ دار کون ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس ملک کی بنیاد زراعت پر رکھی گئی تھی، آج اسی ملک کا زمیندار خاموشی سے ڈوب رہا ہے۔ وہ زمیندار جو کبھی خوشحالی، خود کفالت اور وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج قرض، بے بسی اور مایوسی کی تصویر بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ زمیندار کو نقصان ہو رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ وہ مسلسل کیوں ڈوب رہا ہے۔زمیندار کی سب سے بڑی مشکل بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت ہے۔ کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل، بجلی اور ٹیوب ویل کے اخراجات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف زرعی مداخل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، تو دوسری طرف زمیندار کو اپنی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا۔ جب فصل تیار ہو جاتی ہے تو منڈی میں اسے اس کی محنت کے مطابق قیمت نہیں دی جاتی۔ آڑھتی اور مڈل مین زیادہ منافع سمیٹ لیتے ہیں، جبکہ اصل پیدا کرنے والا ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔
حکومتی سطح پر امدادی قیمتوں کے اعلانات تو ہوتے ہیں، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ زرعی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان ہے۔ ہر آنے والی حکومت نئی پالیسیاں بناتی ہے، مگر زمینی حقائق پر عملدرآمد کا کوئی واضح نظام موجود نہیں۔ زمیندار کو نہ بروقت رہنمائی ملتی ہے اور نہ ہی جدید زرعی ٹیکنالوجی تک آسان رسائی حاصل ہوتی ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں نے بھی زراعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کبھی شدید بارشیں، کبھی قحط سالی اور کبھی غیر متوقع موسم فصلوں کو تباہ کر دیتا ہے، مگر ان نقصانات کے ازالے کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ نتیجتاً زمیندار قرض کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ بینکوں، نجی ساہوکاروں اور آڑھتیوں سے لیے گئے قرضے اس کی کمر توڑ دیتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے کہ زمیندار اپنی زمین بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اور یوں وہ آہستہ آہستہ زراعت جیسے بنیادی شعبے سے ہی باہر ہو جاتا ہے۔
اگر پاکستان کو واقعی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو زراعت کو اولین ترجیح دینا ہو گی۔ زمیندار کو سستی کھاد، معیاری بیج، مناسب امدادی قیمت، آسان قرضے اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہو گی۔ جب تک زمیندار مضبوط نہیں ہوگا، ملک خود کفیل نہیں ہو سکتا۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ”جب زمیندار ڈوبتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں، پوری معیشت ڈوبتی ہے”۔
