خانپور مہر: شوکت علی مہر کی مبینہ زہر خورانی سے ہلاکت، ورثا کا ملزمان کی گرفتاری اور تحفظ کا مطالبہ

گھوٹکی (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ڈہرکی تھانے کی حدود میں گاؤں باگو بھٹو کے قریب دادو مہر سخیجو کے علاقے میں نوجوان شوکت علی مہر کی مبینہ ہلاکت کے معاملے پر مقتول کے ورثا نے خانپور مہر میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ شوکت علی مہر کو کھانے میں زہر دے کر قتل کیا گیا۔ ان کے مطابق، واقعے کا مقدمہ ڈہرکی تھانے میں میر احمد عرف میرو مہر، مائی ہدان مہر، مائی ریحانہ مہر، مائی صغران مہر اور پانچ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرایا گیا ہے۔

ورثا کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج ہونے کے باوجود اب تک مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ انہیں مقدمے سے دستبردار کرانے کے لیے جھوٹے مقدمات میں پھنسانے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

مقتول کے اہل خانہ نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران، مہر برادری کے سرداروں اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے