مہنگا سونا، سناروں کی کھوٹ/کاٹ والی لوٹ مار، غیر رسمی تجارت، ہنڈی، اور مبینہ غیر قانونی نیٹ ورکس

سونے کی چمک تلے کالا دھندا: سناروں کی لوٹ مار، حوالہ ہنڈی اور مبینہ منشیات کا نیٹ ورک، پردہ فاش
خصوصی ڑپورٹ

پاکستان میں سونا محض ایک زیور یا آرائش کا سامان نہیں بلکہ عوام کے لیے مشکل وقت کا سہارا اور سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس باوقار تجارت کے پسِ پردہ ایک ایسا غیر شفاف اور غیر دستاویزی نظام قائم ہو چکا ہے جو نہ صرف عام خریدار کا مسلسل استحصال کر رہا ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔ اکتوبر 2026 کے دوران پاکستان میں سونے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی تقریباً 4 لاکھ 14 ہزار سے 4 لاکھ 23 ہزار روپے فی تولہ کے قریب رہیں، اور اس حد سے زیادہ مہنگائی کے باوجود عام عوام جب اپنی خون پسینے کی کمائی یا ضرورت کے وقت سونا فروخت کرنے جاتے ہیں، تو انہیں سناروں اور صرافہ مارکیٹ کے اپنے گھڑے ہوئے اصولوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام شہریوں کی طرف سے مسلسل یہ شکایت سامنے آتی رہی ہیں کہ سونے کی خرید و فروخت بالخصوص واپس بیچنے کے وقت ان کے ساتھ کھلا دھوکہ دہی کا معاملہ کیا جاتا ہے جہاں ایک تولہ یعنی تقریباً 11.664 گرام یا 12 ماشے کا زیور جب کوئی شہری واپس بیچنے جاتا ہے تو سنار 2 سے 4 ماشے تک کی کٹوتی کاٹ یا ویسٹیج کے نام پر کر لیتے ہیں اور اگر زیور اسی دکان سے خریدا گیا ہو تو کٹوتی کچھ کم ہوتی ہے لیکن کسی دوسرے سنار کا بنا ہوا ہو تو کٹوتی مزید بڑھا دی جاتی ہے۔

خریدتے وقت زیور کو 22 یا 21 قیراط بتا کر اچھے خاصے پیسے وصول کیے جاتے ہیں، لیکن جب شہری وہی زیور واپس لاتا ہے تو جدید لیبارٹری یا اسیئنگ سہولیات کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر اسے 18 یا 20 قیراط قرار دے کر بھاری کٹوتی کر لی جاتی ہے، جبکہ نگینے، مینا کاری اور ٹانکے کا وزن بھی خریدتے وقت سونے کے بھاؤ لگایا جاتا ہے لیکن واپسی کے وقت تمام اضافی وزن منفی کر کے محض کچے سونے کے بھاؤ پر خریدا جاتا ہے۔ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی 2025 کی اسسمنٹ سٹڈی کے مطابق پاکستان میں سونے کی سالانہ کھپت 60 سے 90 ٹن کے درمیان ہے، لیکن 90 فیصد سے زائد تجارت غیر رسمی اور غیر دستاویزی ہے کیونکہ ملک میں معیاری ہالمارکنگ، سرٹیفکیشن اور ریفائننگ کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے صرافہ ایسوسی ایشنز خود ساختہ قیمتیں اور قوانین طے کرتی ہیں اور عام صارف کے تحفظ کا کوئی سرکاری میکانزم موجود نہیں ہے۔

سونے کے کاروبار میں نقد رقم کے زیادہ استعمال اور دستاویزات کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ شعبہ غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں کے صرافہ بازاروں اور گولڈ ٹاورز پر چھاپے مار کر کروڑوں روپے کی غیر قانونی ملکی و ملکی کرنسی، کلو گرام کے حساب سے سونا اور ہنڈی کے رجسٹرڈ شواہد برآمد کیے ہیں۔ نقد رقم پر سونا خرید کر اسے اندرونِ ملک یا بیرونی ملک بھیجنا اور منافع کو ہنڈی یا حوالہ کے ذریعے منتقل کرنا ایک عام طریقہ کار بن چکا ہے اور مالیاتی ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف(FATF )کی سفارشات اور مقامی تحقیقاتی رپورٹس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ غیر رسمی گولڈ مارکیٹ کو منی لانڈرنگ کے لیے ایک محفوظ راستے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

اگرچہ عوامی اور قانونی سطح پر سونا اور منشیات دو الگ الگ دنیا تصور کی جاتی ہیں لیکن زمینی حقائق اور مبینہ اطلاعات ایک انتہائی تشویشناک تصویر پیش کرتی ہیں کیونکہ کچھ جگہوں پر خود ایسا ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے مگر ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اسے مبینہ ہی لکھا جاتا ہے کہ بعض صرافہ تاجروں اور سناروں کی دکانوں کو مبینہ طور پر منشیات یعنی آئس، ہیروئن اور چرس کی خرید و فروخت اور ان کی رقوم کی منتقلی کے لیے بطورِ کور استعمال کرنے کے شبہات پائے جاتے ہیں۔ سونے کے کاروبار میں روزانہ لاکھوں اور کروڑوں روپے کی نقد رقم کا لین دین معمول کی بات ہے، اور اس بھاری کیش فلو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی کالی کمائی کو سونے کی خرید و فروخت کا نام دے کر آسانی سے سفید کر لیا جاتا ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع اور انسدادِ منشیات فورس و کسٹمز کی متعدد کارروائیوں سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی سرحدوں خصوصاً پاک افغان بارڈر اور ساحلی علاقوں پر جن راستوں سے سونا اسمگل کیا جاتا ہے، انہی راستوں اور نیٹ ورکس کو منشیات کی آمد و رفت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

کچھ جگہوں پر مبینہ طور پر یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ سونے کے معزز کاروبار کی آڑ میں صرافہ دکانوں کے پچھلے حصوں یا خاص کلائنٹس کو مہنگی اور جدید منشیات مثلاً کرسٹل آئس کی خفیہ سپلائی دی جاتی ہے تاکہ کسی کو شک نہ ہو، کیونکہ سونے کی دکان پر کسی شخص کی بار بار آمد و رفت یا نقد رقم کی منتقلی پر پولیس یا عام لوگوں کو کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ چونکہ اس قسم کے منظم گٹھ جوڑ میں تکنیکی شواہد، گواہان کی کمی اور اعلیٰ سطح پر پناہ حاصل ہونے کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمات کا قائم ہونا دشوار ہوتا ہے، اس لیے ان تمام کارروائیوں اور مشاہدات کو قانوناً مبینہ ہی قرار دیا جاتا ہے جب تک کہ کوئی ٹھوس عدالتی فیصلہ سامنے نہ آ جائے۔ اگرچہ ایف آئی اے ہنڈی کے خلاف، اے این ایف منشیات کے خلاف اور کسٹمز سمگلنگ کے خلاف وقفے وقفے سے کارروائیاں کرتے رہتے ہیں، لیکن اداروں کی جانب سے اس مشترکہ گٹھ جوڑ پر کوئی جامع اور مربوط یکمشت کریک ڈاؤن دیکھنے میں نہیں آیا کیونکہ صرافہ ایسوسی ایشنز کا اپنا نظام ہے جو سرکار کے کنٹرول سے باہر ہے اور سونے کے خام مال سے لے کر فائنل پروڈکٹ تک کی ٹریکنگ نہ ہونے کی وجہ سے بلیک منی اور منشیات کے پیسے کو اس مارکیٹ میں مکمل پناہ مل جاتی ہے۔

سونے کی مارکیٹ میں جاری یہ تمام بدعنوانیاں صرف عوام کی جیبوں پر ڈاکا نہیں ڈال رہیں بلکہ ملکی مالیاتی اور امن و امان کے نظام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں، اس صورتِ حال پر فوری قابو پانے کے لیے پاکستان گولڈ اینڈ جیم سٹون اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ سونے کی تجارت کو باقاعدہ لائسنسنگ اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لایا جا سکے، ہر جیولر کے لیے سونے کی خالصیت کا سرکاری تصدیق شدہ نشان لگانا اور وصولی پر شفاف ریٹ دینا لازمی قرار دیا جائے، اور ایف آئی اے، ایف بی آر، کسٹمز اور دیگر متعلقہ اداروں پر مشتمل ایک مشترکہ ٹاسک فورس بنائی جائے جو صرافہ مارکیٹ میں ہنڈی، منی لانڈرنگ اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ کی گہرائی سے تحقیقات کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ ہمیشہ کمپیوٹرائزڈ رسید، ہالمارک شدہ زیور اور کٹوتی کی تحریری پالیسی دیکھ کر ہی لین دین کریں تاکہ اس منظم استحصال کا راستہ روکا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے