کرک اور گوادر میں سکیورٹی آپریشنز، 5 دہشت گرد ہلاک، ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

کرک/گوادر (کیو این این ورلڈ) خیبر پختونخوا کے ضلع کرک اور بلوچستان کے علاقے گوادر میں سکیورٹی آپریشنز اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ کرک میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران ڈی ایس پی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) عمران الدین خان سمیت 4 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ گوادر میں سکیورٹی فورسز نے تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی، جبکہ علاقے میں مزید دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق ضلع کرک کے علاقے چرپیرا میں تھانہ خرم کی حدود میں گزشتہ شب دہشت گردوں کی جانب سے چرپیرا روڈ پر ناکہ بندی قائم کیے جانے کے بعد ان کی موجودگی اور نقل و حرکت کے خلاف سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن شروع کیا گیا۔ آپریشن کی قیادت ڈی ایس پی بانڈہ اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کر رہے تھے، جبکہ بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو)، ڈرون ٹیم، ریسکیو 15 اور ریپڈ رسپانس فورس (آر آر ایف) کے اہلکار بھی کارروائی میں شریک تھے۔

پولیس کے مطابق چرپیرا میں دہشت گرد کمانڈر قیصر اقبال کے گھر پر چھاپے کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، تاہم اس دوران ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین خان سمیت 4 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔

شہید ہونے والوں میں ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین خان، سب انسپکٹر افضل اعوان، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کے گن مین کاظم اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار امجد شامل ہیں۔ سب انسپکٹر افضل اعوان تھانہ لتمبر کے ایس ایچ او تھے۔

پولیس حکام کے مطابق علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، جس میں ایس پی آپریشنز، ضلع کے تمام ایس ایچ اوز اور متعلقہ پولیس افسران شریک ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کے علاقے گوادر میں سکیورٹی فورسز نے تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو نشانہ بنایا، جبکہ مزید 3 دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گوادر شاہراہ کے قریب واقع ایک ہوٹل میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر بھی آپریشن جاری ہے، جہاں 4 دہشت گرد سکیورٹی فورسز کے محاصرے میں ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر میں جاری آپریشن کی قیادت جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) خود کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے