کراچی (کیو این این ورلڈ/ڈاکٹر بشیر احمد بلوچ کی رپورٹ) آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
چیئرمین آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نعمان علی بٹ نے ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم حکومت کی اس مجوزہ پیٹرولیم پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کرے اور ملکی معاشی مسائل اور اتار چڑھاؤ کا پورا بوجھ پٹرول پمپ مالکان پر منتقل نہ کیا جائے۔
نعمان علی بٹ نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے ساتھ نئے ریٹ طے کرنے سے قبل پٹرولیم سیکٹر کے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا انتہائی ضروری تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس اچانک فیصلے کی وجہ سے اس وقت ملک بھر کے تقریباً 15 ہزار پٹرول پمپ مالکان شدید ذہنی دباؤ اور تحفظات کا شکار ہو چکے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی اس نئی پالیسی کے نفاذ سے آئل ٹینکرز کی سپلائی، ٹرانسپورٹیشن اور قیمتوں کے تعین کا پورا نظام بری طرح متاثر ہو کر رہ جائے گا۔ حکومت یکطرفہ اور جلد بازی میں فیصلے کرنے کے بجائے پٹرول پمپ مالکان کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر باقاعدہ مشاورت کا راستہ اختیار کرے۔
واضح رہے کہ پمپ مالکان کا یہ شدید ردِعمل وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کی اس پریس کانفرنس کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کو پیٹرولیم ڈی ریگولیشن کی طرف لے جایا جائے گا اور اب اوگرا یومیہ بنیاد پر عالمی مارکیٹ کو مدنظر رکھ کر پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کا تعین کرے گا۔