نیویارک (کیو این این ورلڈ) امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے ایران پر امریکی حملوں اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارروائیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام عزم کے لبادے میں لپٹی لاپرواہی کا مظاہرہ ہے۔

ہفتے کے روز جاری اپنے بیان میں کملا ہیرس نے کہا کہ ٹرمپ امریکا کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل رہے ہیں جسے امریکی عوام نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی خطرناک اور غیر ضروری ہے، جس سے نہ صرف امریکی فوجیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام بھی بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کسی جنگ کی حمایت نہیں کرتیں اور امریکی فوجیوں کو ‘انتخابی جنگ’ کے لیے خطرے میں ڈالنا قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے مطابق آئین کے تحت صدر کو کسی بھی جنگی اقدام سے قبل کانگریس کی منظوری لینا لازمی ہے، اس لیے کانگریس کو چاہیے کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے مزید عسکری پیش قدمی کو روکے۔

کملا ہیرس نے مزید کہا کہ امریکا کو ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خطرات سے آگاہ رہنا چاہیے، لیکن موجودہ راستہ اس مسئلے کا مناسب حل نہیں ہے۔ انہوں نے امریکی فوجیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دعاگو ہیں کہ یہ بہادر اہلکار خطرناک مشنز میں محفوظ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو جنگی جنون کے بجائے ذمہ دار اور متوازن قیادت کی ضرورت ہے تاکہ عوام، اتحادیوں اور فوجیوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے