اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان میں جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے زیرِ اہتمام فائیو جی انٹرنیٹ سروس کے لیے اسپیکٹرم کی نیلامی کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس تاریخی عمل کے ذریعے حکومت کو مجموعی طور پر 507 ملین ڈالر حاصل ہوئے جبکہ پاکستانی کرنسی میں اس نیلامی کی مالیت تقریباً 144.5 ارب روپے رہی۔ حکومتی حکام کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی ہے جو ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ، جدید ڈیجیٹل معیشت اور آئی ٹی کے شعبے میں ترقی کی نئی راہیں کھولے گی۔

اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران فائیو جی اسپیکٹرم کی باضابطہ نیلامی کا آغاز کیا گیا جس میں مجموعی طور پر 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پیش کیا گیا۔ حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ملک کے پانچ بڑے شہروں میں فائیو جی سروس کی فراہمی کے لیے اسپیکٹرم نیلام کیا گیا جبکہ مستقبل میں اس سہولت کو بتدریج ملک کے دیگر شہروں اور دور دراز علاقوں تک بھی توسیع دی جائے گی۔

چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے نیلامی کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ آج ہونے والی نیلامی کا پہلا مرحلہ بینڈ ایلوکیشن پر مشتمل تھا۔ ان کے مطابق 700 میگا ہرٹز بینڈ میں تین لاٹس پیش کیے گئے تھے جن میں سے دو لاٹس فروخت ہو گئے جبکہ 2300 میگا ہرٹز بینڈ میں موجود پانچوں لاٹس کامیابی کے ساتھ فروخت ہو گئے۔ اسی طرح 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں پیش کیے گئے 19 لاٹس بھی مکمل طور پر فروخت ہو گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں مجموعی طور پر 28 لاٹس موجود تھے جن میں سے 22 لاٹس فروخت ہوئے اور اس طرح اس بینڈ میں 220 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلام ہو گیا۔

چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق مجموعی طور پر 597.2 میگا ہرٹز دستیاب اسپیکٹرم میں سے 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فروخت ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیلامی کے پہلے مرحلے میں 507 ملین ڈالر پر قیمت لاک ہوئی جبکہ پاکستانی کرنسی میں اس نیلامی کی مجموعی مالیت تقریباً 144.5 ارب روپے بنتی ہے۔ نیلامی میں شریک تین بڑی ٹیلی کام کمپنیوں نے اسپیکٹرم خریدنے میں حصہ لیا جس کے تحت جاز نے 190 میگا ہرٹز، یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔

نیلامی کے طریقہ کار کے مطابق مختلف راؤنڈز کے ذریعے سپیکٹرم کی بولی مکمل کی گئی۔ پہلے راؤنڈ میں 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں 190 میگا ہرٹز سپیکٹرم دستیاب تھا جبکہ اس کے مقابلے میں 110 میگا ہرٹز کی اضافی طلب سامنے آئی جس کے بعد اگلے مرحلے میں سپیکٹرم کی قیمت میں پانچ فیصد اضافہ کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 35 میگا ہرٹز بینڈ میں 280 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب تھا جبکہ اس کے مقابلے میں 200 میگا ہرٹز کی طلب سامنے آئی۔ دوسرے راؤنڈ کے دوران بعض کمپنیوں نے 2600 میگا ہرٹز سے سوئچ کر کے 700 میگا ہرٹز بینڈ میں بولی دینا شروع کر دی جس کے باعث 2600 بینڈ میں اضافی لاٹس دستیاب ہو گئے۔ تاہم طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں مزید اضافہ کیا گیا اور اس کے بعد تیسرے راؤنڈ میں مجموعی نتائج کو حتمی شکل دی گئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے کے لیے آج کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے ذریعے پاکستان ڈیجیٹل معیشت کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اس کا اہم حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کے ذریعے بلاک چین، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، آن لائن تعلیم، ریموٹ ورکنگ اور جدید ڈیجیٹل سروسز کے فروغ میں نمایاں مدد ملے گی۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے حکومت نے مکمل ایکوسسٹم تیار کیا ہے تاکہ ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکٹرم کی دستیابی بہتر ہونے سے نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ ہوگا بلکہ آئی ٹی برآمدات میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ محمد اورنگزیب کے مطابق علاقائی صورتحال کے پیش نظر حکومت توانائی کے بہتر استعمال اور ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ پر بھی توجہ دے رہی ہے، اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے آن لائن کلاسز اور ورک فرام ہوم کے اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ بنیادی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں آج کا دن تاریخی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ پہلی بار فائیو جی انٹرنیٹ متعارف کروانے کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر اسپیکٹرم نیلام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں انٹرنیٹ کسی بھی ملک کی معیشت کی بنیاد بن چکا ہے اور پاکستان بھی اسی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سے قبل پاکستان میں صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب تھا جس کی وجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار نسبتاً کم تھی اور ملک خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم اسپیکٹرم پر کام کر رہا تھا۔

شزا فاطمہ نے بتایا کہ اب 600 میگا ہرٹز اضافی اسپیکٹرم نیلام ہونے کے بعد نہ صرف فور جی سروس میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ آئندہ چھ ماہ کے اندر بڑے شہروں میں فائیو جی سروس بھی دستیاب ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک کے ہر شہری کو جدید اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ تعلیم، کاروبار، صحت اور دیگر شعبوں میں ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور قومی قیادت کی جانب سے اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون فراہم کیا گیا ہے جبکہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کے آغاز کے بعد ملک میں ڈیجیٹل ترقی کی رفتار تیز ہوگی اور پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مزید مؤثر انداز میں حصہ لے سکے گا۔

تقریب کے آغاز میں چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ دن آ گیا ہے جس کا ٹیلی کام سیکٹر کو طویل عرصے سے انتظار تھا۔ انہوں نے کہا کہ سپیکٹرم کی دستیابی پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھی تاہم پی ٹی اے، فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں سے اس مسئلے کو حل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فائیو جی انٹرنیٹ سروس کے آغاز سے ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی جدید انٹرنیٹ سہولت پہنچانے میں مدد ملے گی۔

چیئرمین پی ٹی اے نے مزید کہا کہ جدید ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر دراصل ایک ڈیجیٹل ہائی وے کی حیثیت رکھتا ہے جو ملک کی معاشی ترقی کا انجن بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے ٹیلی کام انڈسٹری کی سہولت کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن میں رائٹ آف وے چارجز کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں فائبر بچھانے کے لیے 36 ہزار روپے فی کلومیٹر تک رائٹ آف وے چارجز وصول کیے جاتے تھے لیکن اب انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے تاکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو سرمایہ کاری میں آسانی ہو۔

میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے صنعت کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں اور اب بال انڈسٹری کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹیلی کام کمپنیاں اس موقع کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی کے عمل کو مزید تیز کریں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے