نئی دہلی (کیو این این ورلڈ) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی عالمی مقبولیت کے بلند و بانگ دعوے گیلپ انٹرنیشنل کے حالیہ سروے نے غلط ثابت کر دیے ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ ادارے گیلپ کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ کے مطابق 58 ممالک کے 37 فیصد شہریوں نے نریندر مودی کو ایک ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا ہے، جبکہ ایک بڑی تعداد یعنی 38 فیصد افراد نے انہیں پہچاننے سے ہی انکار کر دیا اور ان کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات ہونے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

سروے کے حیران کن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2019ء کے مقابلے میں بھارتی وزیراعظم کو ناپسند کرنے والوں کی شرح میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مودی کے خلاف نفرت اور ناپسندیدگی کے جذبات نمایاں ہیں، خاص طور پر جنوبی کوریا میں 73 فیصد، ایران میں 64 فیصد، عراق میں 62 فیصد اور شام میں 60 فیصد افراد نے بھارتی وزیراعظم کے لیے شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں بھی 53 فیصد عوام نے نریندر مودی کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق مودی کے لیے سب سے زیادہ مثبت رائے صرف بھارت کے اندر ہی دیکھی گئی، جہاں 82 فیصد بھارتیوں نے انہیں پسندیدہ قرار دیا۔ اس صورتحال نے مودی سرکار کے اس بیانیے کو بری طرح متاثر کیا ہے کہ وہ ایک عالمی سطح کے مقبول ترین لیڈر ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر ان کی قبولیت میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے