واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ نے پینٹاگون کے حکام کے حوالے سے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے صرف ابتدائی دو دنوں میں امریکی فوج نے تقریباً 5.6 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار اور گولہ بارود استعمال کر لیا ہے، جو کہ قلیل مدت میں جدید ترین اسلحے کے استعمال کا ایک بڑا ریکارڈ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اتنی بڑی مقدار میں مہنگے اور جدید ترین ہتھیاروں کے تیزی سے استعمال نے امریکی کانگریس کے ارکان میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اراکینِ کانگریس کا موقف ہے کہ امریکی فوج اپنے ان انتہائی جدید ہتھیاروں کے محدود ذخیرے کو تیزی سے ختم کر رہی ہے جنہیں دوبارہ تیار کرنے میں طویل وقت درکار ہوتا ہے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے پاس اہم ہتھیاروں اور گولہ بارود کا لامحدود ذخیرہ موجود ہے اور سپلائی میں کسی قسم کی کمی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فوجی کارروائیاں ضرورت کے مطابق جاری رہیں گی۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فضائیہ اور بحریہ اب تک ایران میں 5 ہزار سے زائد اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا چکی ہے۔ سینٹکام کے مطابق ان حملوں کے دوران ایران کے 50 جنگی جہازوں کو یا تو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے یا انہیں شدید نقصان پہنچا کر ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔