کراچی (کیو این این ورلڈ/ڈاکٹربشیراحمد بلوچ کی رپورٹ) کراچی کے ضلع سینٹرل میں رضویہ سوسائٹی کی حدود ناظم آباد نمبر 1 میں مبینہ طور پر کچی زہریلی شراب پینے سے 3 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر جاوید عالم اوڈھو نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی سینٹرل سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
پولیس کے مطابق ناظم آباد نمبر 1 میں زہریلی کچی شراب پینے سے جنید ولد سعید (32)، محمد رضوان ولد محمد راشد (50) اور عامر غنی ولد غنی (25) کی حالت غیر ہونے پر انہیں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گئے۔ واقعے کے بعد قانونی کارروائی اور مزید جانچ کا عمل جاری ہے۔
اسی سانحے میں مزید 6 افراد — سلطان مسیح (33)، اسد (28)، جوائس (26)، شیرون، عابد (40) اور جیسپرسن — زیرِ علاج ہیں۔ تمام متاثرین کا تعلق ناظم آباد نمبر 1 اور ملحقہ علاقوں سے بتایا جاتا ہے، جبکہ طبی ماہرین کی جانب سے ان کی حالت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پشاوری چپل والی گلی سے ملزم عدنان ولد احسان الحق کو گرفتار کر لیا۔ ملزم کے قبضے سے 16 چھوٹی اور 3 بڑی بوتلیں مبینہ زہریلی کچی شراب برآمد کی گئیں۔ مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر ممکنہ ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور جامع تحقیقات ہر صورت یقینی بنائی جائیں، ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے اقلیتی تہوار کے پیش نظر کچی زہریلی شراب اور دیگر منشیات کی فروخت میں ملوث ملزمان کے خلاف بھرپور اور مؤثر کریک ڈاؤن کا بھی حکم دیا ہے۔
ترجمان آئی جی سندھ سید سعد علی کے مطابق پیش رفت سے متعلق رپورٹ جلد اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے گی۔